نئی دہلی،21؍جولائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )24ہفتے کی حاملہ خاتون کا اسقاط حمل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اس پر سپریم کورٹ سماعت کر رہا ہے۔دراصل میڈیکل ٹیرمنیشن آف پریگنینسی ایکٹ 1971کے مطابق 20ہفتے سے زیادہ کی حاملہ خاتون کا اسقاط حمل نہیں ہو سکتا۔سپریم کورٹ میں دائردرخواست میں ممبئی کی عصمت دری متاثرہ خاتون نے اس ایکٹ کوغیر آئینی بتاتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور اسقاط حمل کرانے کی اجازت مانگی ہے۔خاتون نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ا س کا تعلق انتہائی غریب خاندان سے ہے اس کے منگیتر نے شادی کا جھانسہ دے کر اس کے ساتھ عصمت دری کی اور اسے دھوکہ دے کر دوسری لڑکی سے شادی کرلی، جس کے بعد اس نے منگیتر کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ درج کرایا ہے۔خاتون کو جب پتہ چلا کہ وہ حاملہ ہے تواس نے کئی میڈیکل ٹیسٹ کرائے، جس سے پتہ چلا کہ اگر وہ اسقاط حمل نہیں کراتی ہے ، تو اس کی جان کو خطرہ ہے۔2؍جون 2016کو ڈاکٹروں نے اس کا اسقاط حمل کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کو حاملہ ہوئے 20ہفتے سے زیادہ ہو چکے تھے۔خاتون نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ 1971میں جب قانون بنا تھا تو اس وقت 20ہفتے کا اصول صحیح تھا،لیکن اب وقت بدل گیا ہے اب 26ہفتے بعد بھی اسقاط حمل ہو سکتا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ 20ہفتے کا قانون غیر آئینی ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس قانون سے اس کی ذاتی زندگی اور پرائیویسی متاثر ہو رہی ہے۔حاملہ عورت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے مرکز اور مہاراشٹر حکومت سے جمعہ تک جواب مانگا ہے۔کورٹ نے کہا کہ ہم اس معاملے میں میڈیکل بورڈ کی تشکیل کر کے رپورٹ مانگیں گے ،حالانکہ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پارلیمنٹ میں بل زیر التوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 20ہفتے کے بعد بھی اسقاط حمل کرایا جا سکتا ہے۔